Qayadat ka Mas-ala aur Hamare buzurg by Professor Sayed Abu Zar Kamaluddin

 قیادت کا مسئلہ اور ہمارے بزرگ

اس وقت مسلمانوں کے بنیادی مسائل میں ایک بڑا مسئلہ قیادت کے فقدان کا ہے اور قیادت کے خلا کا ہے۔ قیادت کے بغیر پوری قوم بے انجن کی ریل گاڑی کی طرح ہے۔ کسی گاڑی کے ڈبے اور کوچ کتنے ہی شاندار ہوں، پوری گاڑی اے سی کوچ پر مشتمل ہو اسکی پٹری اور پہیے لوہے کے بجائے سونے اور پلاٹینم کے ہوں مگرجب تک اس میں انجن نہیں لگتاہے گاڑی ٹس سے مس نہیں ہوسکتی۔اگر آپ ہندوستانی مسلمانوں کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کی زمانے کے لیل و نہار چاہے جتنی گردش میں ہوں مگر ہمارے شب و روز جوں کے توں ہیں، اس میں کوئی تبدیلی، تغیراور ارتقاء دیکھنے کو نہیں ملتا۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں قیادت کا خلاہے، جہاں تغیر و ارتقاء حیات و دوام کا ضامن ہے، وہیں سکوت و جمود، موت اور زوال کی نشانی ہے۔

Muslim Qayadat aur hamare masail


ایسا محسوس ہوتا ہے کی پوری قوم کسی ایسے قائد کی منتظر ہے جو آسمان سے فرشتوں کی فوج لے کر آئے اور ان کی تذلیل وارتذال کو طاقت و سربلندی میں تبدیل کردے۔کیا یہ ممکن ہے؟ ہرگز نہیں، ذرا سوچئے پھر اس طرح کسی اور کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا اور حالات و زمانے کا شکوہ کرنا، اکثریت اور حکومت کو برا بھلا کہنا اور اپنے اوقات، وسائل اور نسلوں کو برباد کرنا کیا صحیح ہے؟ اس بڑا نقصان بھی کیا ہوسکتا ہے؟ ہم حالات اور زمانے پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ جو قوم پسماندہ اور درماندہ تھی وہ آگے بڑھ رہی ہے اور ترقی کر رہی ہے۔ کمزور طاقت ور ہو رہے ہیں، ذلیل سمجھے جانے والے لوگ عزت دار بن رہے ہیں۔ ریگزار سبزہ زار بن رہا ہے، ناممکن ممکن بنتا جارہا ہے اور ہم ہیں کہ تقدیر کا رونا رو رہے ہیں۔ کچھ کرنے کو تیار نہیں۔ قوم کی تعمیر، مسجید کے کونے میں تسبیح لے کے بیٹھنے سے نہیں ہوسکتی ہے، اس کے لئے زندگی کے ہر میدان میں قائدانہ صلاحیت سے متصف ہوکر آگے آنا ہوتا ہے اور اپنے عافیت کدوں سے نکل کر جہد و قربانی، صبر، اعلیٰ حوصلگی اور منصوبہ بند کوششیں کرنی ہوتی ہیں۔ یہ کام پڑھے لکھے لوگ ہی کرسکتے ہیں، ہم جاہلوں کے ہاتھ میں قوم کی باگ ڈور نہیں دے سکتے ہیں۔

تن بہ تقدیر ہے آج ان کے عمل کا انداز

تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر

ہم عام طور پر دو ہی طرح کی قیادت سے واقف ہیں۔ایک مذہبی قیادت اور دوسری سیاسی قیادت۔ میں ان دونوں قیادتوں پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کی مذہبی اور سیاسی قیادت کے اہم ہونے کی باوجود یہ قیادت کا محدود تصورہے۔ انسانی زندگی کے جتنے دائرے اور شعبے ہوسکتے ہیں ہمیں سب میں قائدانہ صلاحیت کو لوگوں کی ضرورت ہے۔ ان قیادتوں کی مجموعی کوششوں سے ہی کوئی قوم آگے بڑھ سکتی ہے اور ترقی کرسکتی ہے۔

آپ جب کسی سے بات کرتے ہیں تو اکثر یہ دیکھتے ہیں کہ وہ جس چیز کو اہمیت دیتا ہے، بس اسی کو سارے مسائل کا حل سمجھتا ہے اور دوسری تمام چیزوں کو نظر انداز کر دیتا ہے جب کی حقیقت یہ ہے کہ وہ مسئلہ اہم ہونے کو باوجود کل مسئلہ نہیں ہے بلکہ بقول شاعر’اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا‘‘۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں جو آدمی جس کام ترجیحی بنیاد پر اہم سمجھتا ہے اور وہ کام اس کے نزدیک جتنا ضروری ہے اور جس کام سے اس کی ذہنی دلچسپی اور وابستگی جتنی زیادہ ہے، اس کو وہ خود کرے یا اس کام کو جو لوگ کر رہے ہیں ان کے ساتھ ہوکر اس کو انجام دے اور دیگر کاموں کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھتے ہوئے حسب توفیق تعاون و اشتراک کرے تو، نہ صرف بہت سے کام ہوجائیں گے بلکہ بے جا  تنقید و تبصرہ اور تضیع اوقات سے نجات بھی ہوگی اور ہماری صلاحیتوں او ر وسائل کا مثبت استعمال بھی ہوگا۔

ایک آدمی جو تعلیمی امور میں مہارت رکھتا ہے او تعلیم کو ہی مسائل کا حل سمجھتا ہے تو اسے تعلیمی میدان میں کام کرنا چاہئے اور دیگر لوگ جو اس میدان میں کام کر رہے ہیں ان کے ساتھ ہوکر یا ان کو ساتھ لے کر اس کام کو میقات، منصوبہ اور نظم کے ساتھ مختلف سطحوں پر انجام دینے کے لئے اسے آگے آنا چاہئے۔اس کس کو انکار ہوسکتا ہے کہ مسل قوم تعلیمی اعتبار سے پس ماندہ ہے۔لہذا تعلیمی بہتری کے بغیر قوم کی تصویر اور تقدیر نہیں بدل سکتی ہے۔ ہمیں تعلیمی میدان میں گاؤں کی سطح سے لے کر ملک گیر سطح پر چھوٹ بڑے ہزاروں قائدین اور لاکھوں کارکنان کی ضرورت ہے۔

اسی طرح ایک آدمی جو زبان کے مسئلہ کو ہر دوسری چیز پر ترجیح دیتا ہے اور اس کے نزدیک زبان و تہذیب کی حفاظت سبب سے بڑا کام ہے، اس کو اسی میدان میں منظم پیش قدمی کرنی چاہئے اور اپنی بساط بھر اپنے مقام اور سطح پر قائدانہ کردار ادا کرنا چاہئے۔معاشی مسئلہ بھی ایک بڑا اور بنیادی مسئلہ ہے۔ اس کو حل کرنے کے لئے فرد اور حکومت ہر دو سطح پر بہت سے کام ہورہے ہیں۔غربت اور بے روزگاری سے جڑے بے شمار مسائل ہیں جو فوری اور دائمی حل کے متقاضی ہیں۔ ہم اگر معاشی امور میں مہارت رکھتے ہیں، تجارت، زراعت، صنعت و حرفت، بینکنک اور بازار کی باریکیوں سے واقف ہیں تو ہمیں ان امور میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہئے اور ادارے اور تنظیمیں قائم کرکے ان امور میں لوگوں کی رہنمائی کرنی چاہئے۔

مختصر یہ کہ مسلمانوں کو اس وقت زندگی کے تمام شعبوں میں قائدانہ صلاحیت رکھنے والے لوگوں کی ضرورت ہے۔ جو لوگ ریٹائر ہوگئے ہیں اور ان امور کے ماہر ہیں ان کو اپنی زندگی کے باقی اوقات ملت کی رہنمائی اور قیادت کے لئے وقف کردیناچاہئے تاکہ یہ ملت موجودہ ذلت و نکبت سے باہر نکل آئے اور دیگر قوموں کی صف میں باوقار مقام حاصل کرسکے۔

ہمارے درمیان گرچہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، باصلاحیت، تجربہ کار، ماہرین کی کمی ضرور ہے، مگر یہ جنس ناپید نہیں ہے۔ ہمارے درمیان ریٹائرڈ آئی۔ایس۔ آئی،پی۔ایس، آئی۔ ایف۔ایس افسران، فوج اور پولس کے اعلی عہدیداران، جج اور ماہرین قانون، وایس چانسلرس اور ریاستی اور مرکزی یونیورسٹیوں کے لائق و فائق اساتذہ، انجینئرس، صحافی، مدیر، محقق، ماہرین علم و فن، بینک اور تجارتی شعبوں کے تجربہ کار افراد، چارٹرڈ اکاونٹنٹ، کارپوریٹ سکٹر میں کام کرنے والے افراد، سائنسداں، ماہرین معاشیات و سماجیات، تہذیب و ثقافت کے امین اور ہر سطح پر چھوٹے بڑے ماہرین وتجربہ کار افراد موجود ہیں جو مختلف امور میں قوم و ملت کی قیادت کرسکتے ہیں۔قوم کو ہر طرح کی علم و صلاحیت کے لوگوں کی ضرورت ہے اور ہر شخص کو اپنے حصہ کی ذمہ داری ادا کرنی زاہئے، تبھی قوم آگے بڑھے گی اور ترقی کرے گی۔

ایک بڑی تنظیم کے ایک بزرگ رہنما نے بڑے افسوس کے ساتھ مجھ سے کہا کہ ہمارے درمیان ایک قاعدے کا انگریزی بولنے او لکھنے والا شخص بھی نہیں ہے جو ہمارے لئے سفیر اور ترجمان کا کام کرسکے اور جس کے ذریعہ ہم مختلف امور میں اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے نیز حکومت اور دیگر ذمہ داران سے کوئی ڈائلاگ پروسس شروع کرسکیں۔ مجھے ان کی بات سن کر تعجب بھی ہوا اور افسوس بھی۔ میری نظر میں ریاستی اور مرکزی سطح پر ایسے سینکڑوں لوگ ہیں جن کے علم و مہارت کی ایک دنیا قائل ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ ان کی صلاحیتیں، اوقات اور وسائل ملت کے کام نہیں آتیں۔ اتنے قیمتی ہیرے جواہرات رکھنے کے باوجود یہ ملت تہی دست و تہی دامن ہے اور معذور اور اپاہج کی طرح دوسروں کے دست تعاون کی محتاج ہے۔ یہ بات ہماری ملت کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ عہدہ اداروں کے بھی سوچنے کی ہے اور ملی اور دینی تنظیموں اور اداروں کے ذمہ داروں کے بھی سوچنے کی ہے۔ملی اور دینی تنظیموں کے ذمہ داروں کو اپنی ذہنی محدودیتوں اور تحفظات کو بالائے طاق رکھ کر مذکورہ افراد اور اشخاص سے ربط و ضبط بڑھانا چاہئے، ان کو سوشل ریکوگنیشن دینا چاہئے اور ان کو   ”خیارکم فی الجاہلیۃ خیارکم فی الاسلام واذا فقھو     ،،(بخاری/کتاب احادیث النبیاء /باب ام کنتم شھداء اذیعفو بالوت /حدیث نمبر 3374)

(ایام جاہلیت کے چیدہ اور منتخب افراد کی حیثیت اسلام لانے کے بعد بھی چیدہ اور منتخب افراد ہی کی ہوگی) کے اصول پر ملی مین اسٹریم میں لانا چاہئے اور ان کے تعاون اور خدمات سے فائدہ اٹھاکر ملت کو اوپر اٹھانے کو کوشش کرنی چاہئے اور ان کے حال یہ مسئلہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ماہرین کے سوچنے کا بھی ہے اور ملت کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کے سوچنے کا بھی ہے۔لہذا دونوں سے وسعت نظری اور وسعت قلبی کے ساتھ ایک دوسرے سے تعاون دینے اور لینے اور اپنے اندر ذہنی فکری اور عملی آمادگی پیدا کرنے کی غرض سے ایک مثبت ماحول بنانے کی درخواست ہے۔ شاید ملی فلاح و استحکام میں یہ عمل Game Changer ثابت ہوگا۔

(بشکریہ:زندگی ریٹائرمنٹ کے بعد۔پروفیسر(ڈاکٹر) سید ابوذر کمال الدین، صٖفحہ نمبر 151تا 155) 


Post a Comment

0 Comments