Free PDF Book Urdu by Maulana Wahiduddin Khan

 فکرو نظر کو بدل دینے والی کتاب (رہنمائے حیات) 
مولانا وحید الدین خان

پچاس صفحات پر مشتمل یہ مختصر سی کتاب نہایت ہی قیمتی ہے اور اس کا ہر صفحہ علمی اور فکری معنویت سے لبریز ہے۔اس کتاب کے اندر جتنے بھی مضامین ہیں مولانا وحیدالدین خان حفظہ اللہ نے ان سب کو الحمدللہ اپنی بصیرت افروز اور علمی و زندگانی تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے بیحد سلیس اور عمدہ اسلوب میں خامہ فرسائی کی ہے۔مصنف نے اس کتاب میں تمام تحریروں کو اس طرح بیان کیا ہے کی قاری کو ایک سطر بیجا اور غیر مناسب الفاظ ملنے کی شاذونادر ہی کوئی گنجائش ہو۔

Maulana Wahiduddin Khan
Maulana Wahiduddin Khan


اس کتاب کے پڑھنے کے بعد قاری خود اندازہ لگا سکتاہے کہ اس میں جو مواد زیر تحریر کیا گیا ہے وہ نہایت ہی قابلِ غوراور موجودہ حالات کے بالکل موافق ہیں۔  اس میں علم کی اہمیت، وقت کی اہمیت، تدبیر کہ ٹکراو،بیس سال بعد، مقابلہ کی ہمت،شیر کا طریقہ، مستقبل پر نظر، جیسے اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے جو کہ ہم سب کی اشد ضرورت ہے۔ مولانا نے ایسے عمدہ طریقوں سے اور بیش قیمتی مواد سے کتاب کو مزین کیا ہے کہ اگر کوئی پڑھے تو اس کے اندر بدلاؤ نہ آئے یہ ناممکن نہیں ہے اگر حقیق معنوں میں قاری کے اندر خود کو بدلنے اور بہتر بنانے کی ذراسی بھی رمق اور الفت ہوگی تو یہ کتاب اس کو مزید حوصلہ اور لگن بخشنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑے گی۔اس کتاب میں کچھ اہم نکتہ کو اجاگر کیا گیا ہے جیسے 1965کے بعد امریکہ میں ایشیا کے ملکوں سے جو لوگ امریکہ کے اندر آئے ان کو ایشیائی امریکی کہا جاتا ہے جس میں بدھسٹ، یہودی اور کفیوشش تھے۔ امریکی صدارت کے عہدہ پر فائز ہونے کے لئے امریکی نژاد ہونا ضروری ہے لہذا ان لوگوں نے امریکہ میں اپنا صدربنے اس پر نہ زور دیتے ہوئے اپنی تعلیمات پر زور دیا اور آج وہ تعداد میں دو فیصد ہیں لیکن اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بیس فیصد سیٹوں پر قابض ہیں۔اسی طرح سے جاپان جس کو ماضی میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا اور کافی بربادیوں کا سامنا کرنا پڑا آج بھی امریکہ کی صفوں میں کھڑا ہے کیونکہ ان لوگوں نے تعلیمات اورلرنگ پر زبردست زور دیا اور ایجوکیشن کو اہمیت دی۔امریکی مصنف کے نزدیک اس غیر معمولی کامیابی کا راز یہ ہے کہ جاپان نے فوجی اور سیاسی میدانِ عمل میں شکست کھانے کے بعد اپنے میدانِ عمل کو بدل دیااور سارا فوکس علم کی طرف لگا دیا۔اور اسی علم کے جذبے اور جنون نے جاپان کو ترقی یافتہ ملکوں کی صفوں میں دوبارہ کھڑا کردیا۔وجہ یہ تھی کہ جب بھی کوئی غیر جاپانی جاپان آتا تو جاپان والے ان سے کچھ نہ کچھ سیکھتے اور جب جاپانی ملک سے باہر جاتے تو غیر ملک سے کچھ نہ کچھ سیکھ کر آتے۔جاپان آج علم کی بنیاد پر دوبارہ جاپان بن گیا اور دنیا میں جو اس کی پہچان تھی دوبارہ لوٹ آئی ہے۔ اس طرح کے بیش بہا مواد اس کتاب کے اندر موجود ہیں۔

غالباََ یہ کتاب مختلف موضوعات کا مجموعہ ہے جو کہ الرسالہ نامی پرچے سے اخذ کیا گیا ہے اور لوگوں کی خیر خواہی اور فلاح و بہبود کے لئے ایک پتلی سی کتاب کی شکل میں رہنمائے حیات کے نام سے مکتبہ الرسالہ نظام الدین ویسٹ نئی دہلی سے 1992ء میں شائع کی گئی ہے۔

آج ہم جس سماج کے تحت زندگی گذار رہے ہیں اگر اس کو علمی سماجی مالی اور فکری نظر سے دیکھا جائے تو علم و ادب اور اخلاقیات کا زبردست بحران ہے جس کے سبب ہم اور ہماری موجودہ نسلیں در بدر کی ٹھوکریں کھارہی ہیں اور مختلف مسائل میں گھر کر رہ گئی ہیں۔ سوچ اور فکر،تہذیب و ثقافت ہر طرح کی ترقی اس بات پر منحصرکرتی ہے کہ آپ کا سماج کس طرزِفکر کی فکر کرتا ہے۔اسی طرح آپ کے آس پاس اور آپکی زندگی میں کیسے لوگ ہیں یا آپ کا کیسا اٹھنا بیٹھنا ہے۔ یہی ساری چیزیں آپ کی ترقی کی منزلوں کو طے کرتے ہیں اور آپ کے مزاج اور ذہن کی تخلیق کرتے ہیں ساتھ ہی ساتھ آپ کے چال ڈھال کی عکاسی کرتے ہیں۔اگر ہ چیزیں کھلتے ہوئے پھولوں او رکلیوں میں نقص پیدا کریں گی تو یقیناََخاردار جھاڑیاں ہی پروان چڑھیں گی جس سے آپ نہ پھول حاصل کرسکتے ہیں اور نہ ہی خوشبو۔اگر آپ بار بار یہ مطالبہ کریں گے کہ مجھے خوشبوں کا گلدستہ چاہئے تو گلدستہ نہیں ملے گا بلکہ اس پھول میں موجود جو کانٹے ہوں گے صرف وہی ملیں گے کیونکہ آپ نے مالی کا حق کما حقہ ادا نہیں کیا ہے اس وجہ سے اپنی سوچ اور فکر کو عروج بخشیں اور اوجِ ثریا کی منزلوں کو طے کریں۔ ورنہ نہ ہی آپ کو پھول اور خوشبو ملیں گے اور نہ ہی اوجِ ثریا کی منزل۔

     وفا عباسی

 


Post a Comment

0 Comments