Muslim Media and Muslim Society

Muslim Media & Muslim Society

مسلم میڈیا اور مسلم سماج

وفا عباسی -سنت کبیر نگر یوپی

 Muslim Media, Muslim Community, Muslim Politics, Muslim Education, Muslim Minority, Muslim People, Muslim Society, Muslim Issues, Muslim Territory, Muslim Samaj, Madarsa Board, Muslim Environment, Arshad Madani, Asaduddin Owaisi, PM. Modi, Congress, BJP.

muslim-media-and-muslim-society-aalmiurdu

اس وقت ہندوستان بے شمار مسائل سے دگرگوں ہے۔ اسکی حالت زار موجودہ دور اقتدار کی ابتداء سے ہی جاری وساری ہے۔ آزادی کے بعد مظلوموں کی سرفہرست میں مسلمانوں کا نام سب سے پہلے آتا ہے۔ لیکن اس وقت کچھ زیادہ ہی ظلم وبربریت کا شکار ہے۔ ملک کے غیر مسلموں کو سب سے زیادہ پریشانی دلتوں اور مسلمانوں سے ہمیشہ سے رہی ہے۔کیونکہ مسلمانوں نے حکمرانی کے وقت لا تعداد اسکولوں مدرسوں اور کالجوں کو وجود بخشا اور ایک عظیم مقصد کے تحت انسانیت کی تحفظ و بقاء کے لئے دنیا کے سامنے پیش کیا مگر افسوس اس بات کا ہے کہ وہی آج علم سے کوسوں دور، غیرمہذب اور زندگی کے مراحل میں طرح طرح کے آلائب و مصائب سے شکست خوردہ نظر آرہا ہے۔انھیں تمام وجوہات کی بناء پرآزادی کے بعد مسلمانوں کو بے شمار ملکی مسائل میں کسی بھی وقت کسی بھی مسئلے میں موردِالزام ٹھہرادیا جاتا ہے۔ خصوصی طور پر دہشت گردی، فرقہ پرستی، فسادات کو ہوا دینے میں، ملک سے غداری، پاکستانی ہونے میں اور ان کے مترادف بہت سے ایسے معاملات ہیں جن میں مسلمانوں کو کوئی بھی غیر مسلم کسی بھی چیز اور لقب کی سرٹیفیکٹ دینے میں خود کو بہادر اور ہمتِ مرداں سمجھنے لگتا ہے۔یہاں تک کی کہ اگر کوئی غلطی سے کسی دوسرے ملک کے کسی پرسنالٹی اورسیلیبریٹی سے شوشل میڈیا کے ذریعہ مربوط ہوجائے توغداری کی سرٹیفیکٹ بڑی جلدی سے دے دیاجاتا ہے۔میری رائے کے مطابق یہ سرٹیفیکٹ بیس کروڑ مسلمانوں کو اتنی جلدی دیا جاتا ہے جتنا کی وزیراعظم مودی کو تعلیمی سرٹیفیکٹ۔


حقیقی معنوں میں اگر ملکی تاریخ پر ایک طائرانہ نظرڈالی جائے تو اس کی شروعات1857عیسوی کے آغاز ہی میں ہوچکی تھی۔ ہندوؤں کے اعلی ذات کے طبقوں نے اسکی بنیاد مسلمانوں سے غداری اور انگریزوں سے وفاداری کے ذریعہ شروع کی جس نے 1857عیسوی کے تاریخی واقعات کو رونما کیا۔ پھر آرایس ایس کی پیدائش ہوئی اور گاہے بگاہے اس نے عالمی پیمانے کی شکل اختیار کرلی۔ آج کی تاریخ میں اس کی سیکڑوں ذیلی تنظیمیں ملک وبیرون ملک میں پائی جارہی ہیں اور اس کی پرورش اور نشوونما کرنے والے اشخاص بھی دنیا کے گوشے گوشے میں کیڑے مکوڑوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں۔اس کے افکارونظریات اتنے تخریبی قوت کے حامل ہیں کہ اگر اسکو جبرا  ہندوستانی باشندوں پر مسلط کر دیا جائے تو لوگ غلاموں سے بدتر زندگی جینے پر مجبور ہوجائیں گے۔بہرحال یہ تمام صورتحال ابھی بھی باحیات  ہیں اور جدید ترین افکارونظریات اور سازشوں کے ساتھ ابھی بھی ہمارے ملک ہندوستان کو اپنے پنجہئ استبداد میں جکڑے ہوئے ہیں۔

مودی حکومت نے اس ظلم و بربریت اور سفاکی کو مزید عروج اور بڑھاوا دیا ہے کیونکہ جب سے مودی حکومت نے اپنی ظالمانہ حکومت کا آغاز کیا ہے اس وقت سے ہندوؤں کے تمام ذات کے طبقات نے مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتوں اور پریشانیوں میں غرق کردیا ہے۔ ان لوگوں نے ایسے غیر سماجی کاموں کو انجام دیا ہے جس نے پوری انسانیت کو لہولہان کردیا ہے۔ جیسے مسلمانوں کی گائیوں کے نام پر موب لنچنگ، بابری مسجد پر غیر منصفانہ فیصلہ، تین طلاق، کشمیر سے 370 کو ہٹانا، انکو فسادات میں جبرا ملزم بنانا، پاکستانی دہشت گرد کہنا، گائے اور تمام طرح کے گوشت کھانے پر پابندی لگانا، کبھی بھی سفر کرتے ہوئے کسی بھی مسلمان کو جبرا وندے ماترم اور جے شری رام کہلوانا اور سب سے اہم مسئلہ ہندوستان سے انکی شہریت کو ختم کرنا یعنی سی اے اے اور این آرسی لانا۔

یہ ہندوؤں کے وہ مشن اور خیالات ہیں جس سے مسلم سماج کافی پریشان، لاچار اور بے بس نظر آرہا ہے۔ یہی وہ تمام ایشوز اور وسائل ہیں جس نے مسلمانوں کی نیندوں کو حرام کردیا ہے۔ ایسے عالم میں مسلمانوں نے اپنی آواز حکومتِ ہندکے کانوں تک بلند کرنے کے لئے مسلم میڈیا کی بنیاد قائم کرنے کی طلب وجستجو کی ہے جس میں ابھی وہ فلاح و نصرت سے ہمکنار نہیں ہوئے ہیں۔دراصل مسلم میڈیا کو قائم کرنا اور اس کے ذریعہ اپنی آواز لوگوں اور حکومت کے سامنے پہونچانا نہایت ہی ایک دیدہ دلیری کا کام ہے جس میں بہت زیادہ سرمایہ کاری،حوصلہ، لگن،اتحادواتفاق اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے نکلے ہوئے تجربہ کار انسانوں کی ضرورت ہے جو انہیں کے طرزعمل اور مینیجنگ سسٹم کو اپناتے ہوئے اپنی جنگ بہ آسانی لڑ سکیں۔

اس کے تعلق سے سیکڑوں سوالات پیدا ہوتے ہیں مثلا کیا مسلم میڈیا قائم کرکے ہم اپنی اور پنے قوم کے بے گناہ لوگوں کی مدد کرسکتے ہیں یا حکومت ہند اور دنیا کے کونے کونے تک اپنی بات پہونچا سکتے ہیں ہرگز نہیں کیونکہ جب آپ مسلم نام کے زیر سایہ کسی بھی چیز کی بنیاد رکھیں گے تو اس چیز کی اتنی اہمیت وافادیت باقی نہیں رہے گی جو عام میڈیا کی ہوتی ہے۔اس سے مسلمانوں اور ہندوؤں کے مابین ایک لکیر کھنچ جائیگی اور لوگ متنفر ہوجائیں گے جیسا کہ آپ سدرشن اور آستھا چینل کی تاریخ کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ چینلس مسلمانوں کے یہاں اور ان کے ذہن و دماغ میں بالکل منفی اثر رکھتے ہیں انکا نام آتے ہی ہمارہے ذہنوں میں طرح طرح کی منفی سوچ پیدا ہونے لگتی ہے اور یہاں تک کہ گالیوں کا ایک گلدستہ تیار ہوجاتا ہے۔ہوسکتا ہے وہ اپنی آئیڈیالوجی اور اپنے مذہب اور قوم کی ترویج و اشاعت میں سو فیصد صحیح  اور مثبت ہوں لیکن مسلمانوں اور دنیا کی نظر میں وہ ایک مکاّراور چالباز کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں۔بلکہ آپ ان دونوں چینلوں کے علاوہ دیگر چینلوں کو دیکھیں گے تو آپ کے ذہن و دماغ میں کچھ اور ہی تصویر ابھر کر سامنے آئیگی۔جیسے این ڈی ٹی وی،دی وائر،ستیہ ہندی،دی لائیو ٹی وی،نیشنل دستک،نیوز کلک ان، پون پرسون واجپائی،ایچ ڈبلیو نیوز نیٹورک،دی للن ٹاپ اور نیوز لانڈری۔یہ وہ میڈیا اور یوٹیوب چینلس ہیں جنکو تقریبا مسلم وغیر مسلم ہرکوئی دیکھتا ہے۔

اس وجہ سے ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنے کو اوج ثریاتک لیجانے کے لئے دور اندیشی اور حکمت عملی سے کام لیں اور جذباتیت سے دور رہیں۔پروفیسر اختر الواسع اس تعلق سے لکھتے ہیں  کہ (مسلمانوں کو اس نازک اور اشتعال پسند دور میں دو باتوں کا خاص طور پر خیال رکھنا ہوگا۔ایک شجاعت اور حماقت کی سرحدوں کے درمیاں بہت کم فاصلہ ہوتا ہے۔آج ہماری بڑی پریشانی یہ ہے کہ ہم اپنے تمام مسائل کو گرمئی تقریر، گرمئی محفل، اور گرمئی جذبات سے حل کرنا چاہتے ہیں انجامِ کار ہمارے حصہ میں مایوسی ناکامی اور انتشار آتا ہے۔)اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے ایسے صحافی قلم کار اور رپورٹر ہیں جنہوں نے اپنی قلم کی طاقت سے سچائی اور حقیقت پسندانہ رپورٹنگ کی ہیں جو دنیا کے ذہن و دماغ میں آج بھی محفوظ ہیں جیسے ایم جے اکبر، سیما مصطفی،سیما چشتی، سلمی سلطان، انیس جنگ، نغمہ سحر،عارفہ خانم،ضیاء السلام،افتخار گیلانی، عسکری، رشید قدوائی،حسن سرور، صدیق احمد صدیقی، شیخ منظور،شمش طاہر خان،جاوید انصاری،کمال خان، ریحان فضل، جاوید نقوی،شارق خان، سعید انصاری، صبا نقوی، اورنگ زیب نقشبندی،وجیہ الدین، رعنا ایوب، ایم اے سراج، میر ایوب علی خان،سراج وہاب، اعجاز ذکاء سید، شکیل شمشی،فراز اور سہیل انجم۔ یہ وہ کچھ نام ہیں جن کو پروفیسر اخترالواسع نے اپنی ایک تحریر میں ذکر کیا ہے۔

فوق الذکر تحریروں کا مقصد ہے کہ اگر آپ اپنے بچوں اور نوجوانوں کی تربیت اور تعلیمی ذہن یہ بنائیں کہ عالم، حافظ، قاری اور مفتی کے علاوہ کچھ ایسے نوجوان ہوں جو پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کی تعلیم حاصل کریں اور اپنی گرفت اور دسترس انہیں چیزوں پر فوکس کریں جو سماج کو ایک صحافی قلم کار اور رپورٹر دے سکیں تو یہ کہیں زیادہ بہتر اور مفید ہوگا بجائے اس کے کہ آپ ایک الگ سے مسلم چھاپ میڈیا کی بنیاد ڈالیں۔ان تمام تحریروں سے آپ کے دماغ میں سوال پیدا ہورہا ہوگا کہ ایسا کیوں کریں اور مسلم میڈیا کی بنیاد رکھنے میں حرج کیاہے؟۔

(1) یہ ملک اور اسکی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو مسلم دشمنی پر مبنی ہے چاہے وہ کانگریس ہو یا بی جے پی۔

(2) ماضی قریب میں آپ نے دیکھا ہوگاکہ جب ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اسلام کی اشاعت و تدریج اور امن و امان کی خاطرترقی کی منزلوں کو اپنا مسکن بنایا تو ان کو تخریبی قوتوں نے ایسا پھنسایا کہ ان کا نکلنا اور بچنا سورج کا پچھم کی طرف سے طلوع ہونے کے مانند ہوگیا۔.

(3) برج تنظیم نے جب بلا تکلف مسلکی اختلافات کے بغیر ایک گلستاں کی بنیاد ڈالی تو ان کو نیست و نابود کر دیا گیا اور ان کے تعاقب میں ملک کی خفیہ تنظیموں کو بھیج کردہشت اور الزامات میں ڈبو دیا گیا۔

(4) مسلمانوں نے جب اندرونی تخریبی قوت بھاجپا کو الیکشن میں زیر کرنے کے لئے متحدہ محاذ سیاسی پارٹیوں کی حمایت کی تو انکو ایسا ہرایا گیا کہ ان کے ذہنوں سے اتحادواتفاق کا نام ونشان مٹ گیا۔

(5) اس ملک میں مسلمان خواہ عہدوں اور تعلیمات میں کتنا ہی پاورفل کیوں نہ ہوں اصل طاقت ملک کی فضا کو مسموم کرنے والے تخریبی قوتوں (آرایس ایس، بی جے پی اور کانگریس کے ممبران کے ہاتھوں میں ہے) کے زیر سایہ ہیں پھر چاہے کچھ بھی کرلیں ہم کو انھیں کے اشاروں پر چلنا ہوگا۔اس لئے ہمیں دور اندیشی اور حکمت عملی سے اپنی منزلوں کو پانا ہے۔ اس کے لئے ہمیں مسلم مفکروں،دانشوروں اور علماء کرام پر مشتمل ایک اجلاس درکار ہے جو مستقبل کے لائحہ عمل کو تیار کرسکیں۔

(6) ہماری صفوں میں کچھ ایسے منافقین ہیں جن کی وجہ سے کسی تنظیم کو خفیہ مقاصد کے تحت لیڈ کرناخود کو موت کے منہ میں ڈھکیلنا ہے۔

(7) خود کو حرام کاری اور کنبہ پروری سے بچانا ہے جو کہ ناممکن اور بیحد مشکل ترین کام ہے۔

(8) مسلمانوں کے رہنماؤں کا اپنی قوم اور عوام کے تئیں مخلص ہونا کیونکہ کسی بھی چیز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس کی بہت ضرورت ہوتی ہے جو کہ صفر کے مساوی ہے۔

(9) دولت، تعلیم، جذبہ، لگن اور حوصلوں کی مسلمانوں میں بہت زیادہ کمی ہے۔ اسکی خاطر سب سے پہلے ہمیں اپنی نسلوں کو تربیت اور تعلیم یافتہ بنانا ہے۔

(10) غیرمسلموں کی چالبازی اور سازشوں کا مقابلہ کرنے کی دور اندیشی اور حکمت عملی کی کمی۔

یہ وہ کچھ نکات تھے جن کی وجہ سے مسلمانوں کا مسلم میڈیا کی بنیاد رکھنے اور اسکی تشہیر کرنے میں درپیش مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔آخرالذکر بات یہ ہے کہ ماضی قریب اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی اپنی صلاحیتوں اور اعلی استعداد کے لحاظ سے اسلامیات کے علاوہ دنیاوی علوم کے مختلف شعبوں میں اپنی گرفت مضبوط کریں اور مسلم مخالف سازشوں اور افکارونظریات کے شانہ بہ شانہ دانشمندی کے ساتھ اپنی اور اپنے قوم و ملت کی دلجمعی اور مخلصانہ طور پر خدمت کریں کیونکہ جب آپ اس طرح کا عملی اقدام اٹھائیں گے تو ان شاء اللہ مسلمانوں اور اسلام کی تعلیمات پر جب کوئی نکتہ چینی کریگا تو آپ اپنے ہی ساتھ کام کرنے والوں کا بیک وقت جواب دے سکتے ہیں اور اس کے علاوہ میڈیا کی سیکھی ہوئی تعلیمات کا الگ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔


(اگر آپ کو یہ آرٹیکل فائدے مند لگا ہو تو پلیز ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرلیں تاکہ اسطرح کے موضوعات پر جب ویڈیو بنائی جائے تو آپکو نوٹیفیکیشن ملنے میں تاخیر نہ ہو۔ شکریہ)

YouTube/aalmiurdu


Post a Comment

0 Comments