World Happiness Report 2020 of India | aalmi urdu

سب سے خوشحال ملک کون؟ (۰۲۰۲ کی رپورٹ)

ہمارے ملک میں جب سے نئی لبرلائز معاشی پالیساں عمل میں آئیں ہیں ہندوستانی حکومت تبھی سے ملکی معیشت کو عمدہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جبکہ حکومت بڑے بڑے دعوے کررہی ہے کہ ملک ترقی کی منازل کو طے کر رہا ہے۔

World Happiness Report 2020 of India | aalmi urdu

بین الاقوامی سطح پر ہونے والے سروے میں یہ دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ملک میں ارب پتیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اور بیحد خوشحال اور پرسکون زندگی گزار رہے ہے۔ لیکن محض یہ سب ایک ڈھکوسکلا ہے جبکہ معیشت کچھ اور ہی تصویر بیان کررہی ہے۔حال ہی میں اقوام متحدہ نے ورلڈ ہیپنس رپورٹ ۰۲۰۲ میں یہ بتایا ہے کہ ہندوستان اس وقت۴۴۱ ویں مقام پر جا پہونچا ہے، ہندوستان ۹۱۰۲ میں ۰۴۱ ویں مقام پر تھا اور ۸۱۰۲ میں ۳۳۱ ویں مقام پر اور ۷۱۰۲ میں ۲۲۱ ویں مقام پر لیکن جب سے بی جے پی دور اقتدار میں آئی ہے ہندوستان ہر قدم پر پیچھے کی طرف جارہا ہے۔

Sustainable Development Solution Network


یہ اقوام متحدہ کا ایک ادارہ ہے جو ہر سال بین الاقوامی پیمانے پر ایک رپورٹ جاری کرتا ہے کی سب سے خوشحال ملک پوری دنیا میں کون ہے۔ اس میں معاشی ماہرین کی ایک ٹیم ہوتی ہے جو دنیا کے تمام ممالک کے شہریوں سے انکی آمدنی،صحت،عمر،معاشرتی تعاون اور آزادی کے بارے میں معلومات حاصل کرتی ہے اور ایک رپورٹ جاری کرتی ہے۔جس میں بتایا جاتا ہے کہ سب سے خوشحال ملک کونسا ہے؟۔
دس خوشحال ملک
فن لینڈ، ڈنمارک، سویزرلینڈ، آئس لینڈ، ناروے،  نیدر لینڈ، سویڈن، نیوزی لینڈ، آسٹریا، لگزمبرک۔ یہ وہ تمام ملک ہیں جنکو اقوام متحدہ کی تنظیم سسٹینبل ڈیولیپمنٹ سالویوشن نیٹورک نے بتایا ہے۔

خوشحالی کی وجہ

جیسا کہ مذکورہ بالا سطور میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ تنظیم کن کن چیزوں کی بنیاد پر یہ سروے کرتی ہے اسی کی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ہندوستان میں بہت سی خرابیاں ہیں جو شاید ہندوستان اسکو کبھی پورا نہ کر پائے۔
کرپشن کی زیادتی- اگر اس تناظر میں ہندوستان کے اوپر ایک سرسری نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ ہندوستان کی اس کبھی نکل نہیں پائے کیونکہ یہاں حقیر سے حقیر سرکاری کام کو کرانے کے ملازموں کی جیبوں کو بھرنا پڑتا ہے جو ایک بہت ہی گھناونا چہرہ ہے۔
سماجی طور پر ترقی پسند ہونا- یہ الگ ہی خصوصیات ہیں جو ان تمام دس ملکوں کے اندر پائی گئی ہیں جبکہ ہندوستان میں لوگ اس کے برعکس ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو لوگ یہاں خودپسند ہیں نہ ترقی پسند۔
پولیس کا قابل اعتماد ہونا-یہ تو ہندوستا کی بہت بڑی ناکامی ہے جو کہ سسٹم پر ایک دنما داغ ہے کیونکہ یہاں کی پولیس کا رویہ مسلمانوں کی لئے بالکل جارحانہ اور جاہلانہ ہیں جو آئے دن ہمیں کہیں نہ کہیں کسی شکل میں شوشل میڈیا کے بذریعہ آہی جاتا ہے۔اور سب سے اہم بات یہ کہ پولیس سب سے زیادہ رشوت خور ہے۔
مفت علاج - یہاں ان ملکوں کے بنسبت یہ سہولت تو بالکل نہیں ہے۔کیونکہ یہاں پر سرکاری محکموں میں بھی رشوت خوری کا بازار کافی تیزی سے پھیلا ہوا ہے اور پرائیوٹ اسپتالوں کی تو خیر کوئی تبصرہ ہی نہیں وہ من کے مرضی ہیں۔ یہ تو ایسے عوام کو لوٹتے ہیں کہ انکو پیسہ چھپانے کے لئے پانی کی ٹنکیوں میں ڈالنا پڑتا ہے لیکن مجال ہی کیا ہیں جو خفیہ پولیس کی نظروں سے بچ سکیں۔

سرکار کی فراہم کردہ سہولیات تک رسائی نہ ہونا- یہ بھی ایک عجیب معاملہ ہے ہندوستانی سرکار غریبوں کو جو طبی اور دیگر سہولیات فراہم کرتی ہے ایک عام آدمی وہاں تک پہونچ ہی نہیں پاتا سرکاری ٹھیکیدار پہلے ہی اس کو نگل لیتے ہیں۔کیونکہ بیچارے وہی سب سے زیادہ غریب اور مفلس ہوتے ہیں ان سے بڑا مفلس کوئی نہیں ہوتاہے۔اور دوسری وجہ یہ کہ ایک بڑا طبقہ ابھی بھی غیر تعلیم یافتہ ہے۔

کیریئر بنانا- بیشتر ہندوستانی طلبہ اس فکرمیں مبتلا ہوتے ہیں کہ انکو کچھ نہ کچھ بننا ہے لہذا جو  کچھ بن جاتے ہیں وہ بینکوں کے مقروض  ہوجاتے ہیں  جو قسط بھرنے میں کافی پریشان رہتے ہیں۔اور دوسرے لوگ کچھ بن نہیں پاتے اسوجہ سے ہمیشہ مایوسی کا رونا روتے رہتے ہیں۔

فسادات - یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہندوستان سے کبھی ختم نہیں ہوسکتی اور یہ بھی ایک بڑی وجہوں میں سے ایک وجہ ہے کہ لوگ اس سے پریشان رہتے اور اس میں کافی نقصان سہنا پڑتا ہے۔

بھید بھاو- ہما ملک ہندوستان میں دوسرے ملکوں کی بہ نسبت ابھی بہت زیادہ گراف میں آپسی اور نسلی بھید بھاو پایا  جاتا ہے جو غیر مسلموں میں سے بیشتر لوگوں کا اس کا شکار ہونا پڑتا ہے۔

آئے دن کوئی نہ تہوار ہنا- اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہندوستان ایک عظیم ملک ہے آبادی کے اعتبار سے اور رقبے کے اعتبار سے بھی جس میں طرح طرح کی مذہب کے لوگ بستے ہیں جن کے یہاں کوئی نہ کوئی تہوار آئے دن ملتا رہتا ہے۔ یہ بھی ایک بڑی وجہ ہندوستان کو پیچھے کیطرف لیجانے میں۔

جہالت- ہندوستان گرچہ ایک عظیم ملک ہے لیکن تعلیمی میدان میں ہندوستان ابھی ان دس ملکوں سے کافی پیچھے ہے جس کے سبب ہندوستان ہر قدم پر پیچھے ہے۔کیونکہ جب تعلیم ہوگی تبھی بیداری ہوگی۔

-Wafa Abbasi-

Post a Comment

0 Comments