Hindustan Mein Berozgari Ka Sabab | aalmi Urdu


ہندوستان میں بےروزگاری کا سبب

 وفا عباسی – سنت کبیر نگر
ایشیائی سماج اور معاشرے میں بہت سے ایسے نازک ترین مسائل پائے جاتے ہیں جن میں روزی روٹی ایک اہم ترین  موضوع بحث مسئلہ ہے جوہندوستانی سماج میں تقریبا  ہر گھر اور فیملی کا ایک منفرد معاملہ ہے۔
نوکری کے تعلق سے لوگوں کے نظریات اور رائے کیا ہیں اس چیز کو میں نے اپنی زندگی میں تقریبا ہر طرح کے لوگو ں کی گفتگو اور رہن سہن سے ایک الگ طریقے سے جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ چند ایسی چیزیں ہیں جو لوگوں کو بے روزگار بنانے میں ایک خصوصی کردار ادا کرتے ہیں۔  جو مندرجہ ذیل ہیں
Hindustan me Berozgari ka Sabab, Education, Jobs In India, Unemployment In India

1 )        معاشی بحران :-  عالمی اور ملکی پیمانے پر ہر دور میں گاہے بگاہے ہر دہائی میں اکثروبیشتر معاشی بحران اپنی جگہ ضرور بنالیتا ہے  میری نظر میں  اس کے پیچھے چند ایسے وجوہات ہوتے ہیں  جن کی وجہ سے معاشی بحران اپنی جڑیں پکڑ لیتا ہے جیسے عالمی جنگ ، رشوت خوری ، غبن  اور گھریلو مصنوعات میں گراوٹ (GDP

2 )      بی جے پی سرکار کے ذریعہ لائی گئی نوٹ بندی  جس سے ہندوستانی باشندوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا جس  میں 150 لوگوں کی موتیں  ہوئیں اور گھریلو مصنوعات میں 2.2 فیصد کی پچاس دنوں میں کمی آگئی۔اس کے علاوہ پچاس دنوں میں 1.28 لاکھ کرو ڑ کا نقصان ہوا، یہی نہیں پندرہ لاکھ لوگ بےروزگار ہوگئے۔ بی جے پی سرکار نوٹ بندی کو لے کردس  بڑے بڑے دعوے کر رہی تھی لیکن دس بڑے فائدے ہونے بجائے پانچ بڑے نقصانات ہوگئے  جس نے ہندوستان کی کمر توڑدی۔ ہندوستان جس کالے دھن کی بات کررہاتھا  وہ کالا دھن واپس نہیں آیا کیونکہ 99٪  نوٹ بینکوں میں واپس آگئے اور ایک فیصد جو 16،000 کروڑ روپیہ تھا بینکوں میں نہیں پہونچ پایا اس کے پیچھے یہ ہوسکتا ہے کہ یہ وہی پیسہ ہو جو مندروں اور غیرملکوں میں پڑا رہا جسکو سرکار لائی نہیں۔

3)       تعلیم و تربیت اور اس کا فقدان :- ہندوستان میں ابھی بھی بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو تعلیم سے کوسوں دور ہیں- یہ اس مضمون کا ایک اہم جز ہے جس کا بہت ہی اہم کردار ہے ایک عام آدمی کو روزگار فراہم کرنے میں اور بے روزگار بنانے میں اسکا بہت بڑا رول ہوتا ہے۔ تعلیم کی اہمیت و افادیت کے تعلق سے بہت سارے مضامین کتابوں اور اخبار و رسائل میں آپ پڑھ سکتے ہیں  اور اسکا اندازہ آپ اپنی حالاتِ زندگی میں دیکھتے بھی ہوں گے۔ سابق صدرجمہوریہ اور سائنسداں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے کہا ہے
 " Education is the most powerful weapon which you can use to change the World "
" تعلیم ایک ایسا بیش قیمتی ہتھیار ہے جس سے آپ دنیا کو بدل سکتے ہیں ''     اس لئے یہاں پر تعلیم کا ذکر کرنا اس بات کی طرف توجہ مبذول کرانا ہے  کہ جب آپ تعلیم وتربیت سے آراستہ وپیراستہ رہیں گے تبھی جاکر ایک عمدہ اور بہترین روزگار پاسکتے ہیں اگر اللہ کی مدد شاملِ حال رہی تو۔
اس وقت ہندوستان میں جن پروفیشن کی اوسطا سیلری ہے وہ 295-300 امریکی ڈالر ہیں –
Software Engineer, Retail Store Manager, HR Manager, Civil Engineer, Lecturer & Professor, Personal Banker, Sales Officer, Web Designer.

ہندوستان میں بےروزگاری کی شرح
انٹرنیشنل لیبر آرگنایزیشن (ILO) یہ یونائٹیڈ نیشن کی ایک ایجنسی ہے اس نے ایک رپورٹ جاری کی ہے اس وقت ہندوستان میں جو بےروزگاری کی شرح چل رہی ہے وہ 2017-2016 کے مطابق 3.4 ہے اور 2019-2018 میں یہ بڑھ کر 3.5 ہو گئی ہے جس  سے  آج ہمارے ہندوستانی معاشرے میں کافی افراتفری چل رہی ہے۔
سعودی عرب اور خلیج کے حالات
ایشائی ملکوں سے مسلمانوں اور  غیر مسلمانوں  کی ایک بڑی تعداد خلیج اور سعودی عرب میں کام کرتی ہے جس سے کچھ حد تک گھر اور اپنی اپنی زندگیاں  سنوارنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور بہت سارے لوگ وہاں جاکر بھی کامیاب نہیں ہوپاتے ہیں۔ بہرحال ابھی ادھر سعودیہ میں تین چار سالوں سے جس طرح معاشی نشیب و فراز چل رہا ہے اس  سے ہندوستانی باشندوں کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ یہاں تک کی سعودی باشندوں کی بھی تنخواہوں میں کمی کر دی گئی تھی لیکن پھر کسی طرح نارمل ہوگئی۔ سعودی عرب کو یمن اور قطر  کے معاملات کو لے کر کافی نقصان ہوا جس سے ہندوستان اور دیگر ملکوں کے کام کرنے والوں پر بھی سو فیصد اثر پڑا ، جیساکہ آپ اپنے ارد گرد حالات کا منظر دیکھتے ہوں گے تو اسکا بھی  ایک اچھا خاصا اثر ہوا ہےلوگوں کو بے روزگار بنانے میں ۔

اپنی بات
یہ تمام ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو بے روزگاری پر کافی اثر انداز ہوتی ہیں لیکن سماج اور معاشرے میں ایک الگ قسم کی سوچ اور فکر  پیدا ہورہی ہیں  جو جدید ترین فتنوں اور فساد کو جنم دے رہی  ہیں- اگر ایک تعلیم یافتہ گھرانہ اور ماحول  ہے تو خیر کوئی بات نہیں ورنہ مارپیٹ اور گالی گلوچ تک لوگ پہونچ جاتے ہیں۔ اصل میں لوگوں کے پاس سوچنے کی صلاحیت کا فقدان ہے جس کے سبب یہ تمام راستے ہموار ہوتے ہیں۔
 صحیح بخاری میں ہے کی جب بچہ ماں کے پیٹ میں چالیس چالیس  اور چالیس دن کا ہوجاتا ہے تو ایک فرشتہ آتا ہے اور اسکی زندگی اور رزق کے تعلق سے اللہ رب العالمین کے  حکم سے جو فرمان ہوتا ہے وہ لکھ دیتا ہے اور اسمیں روح پھونک دیجاتی ہیں ۔اب جب کی یہ چیز ہر بندے کے مقدر میں  لکھ دیجاتی ہے تو انسان اتنا پریشان کیوں ہوتا ہے۔ کیوں کہ اللہ نے انسان کو ایسی فطرت پر پیدا کیا ہے کہ اسکی خواہش ہوتی میں زیادہ کماؤں( یہ ایسی فطرت ہے جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے مثلا عورت کی محبت، مال وجائیداد کی محبت، زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی کوشش، تاکہ بندوں کا آزمایا جائے)  اب یہ اسکی مرضی ہے کہ حلال طریقے سے کمائے یا حرام طریقے سے بس انسان کا کام ہے کوشش کرنا (بقیہ رزق عطا کرنا اللہ کا کام ہے اسمیں زیادہ پریشان ہونے کی انسانوں او ر مومنوں کو ضرورت نہیں ہے) ۔ جیساکہ علی بن ابی طالب کا ایک واقعہ ہے کی انہوں نے اپنے گھوڑے کو مسجد کے باہر  جگہ نہ ملنے پر تھوڑی دور پر کہیں باندھ دئیے اور ایک شخص آیا اور گھوڑے کی زین چرا کر کسی دکاندار سے فروخت کر دیا  وہ سمجھ گئے کہ کوئی اسکو  چرا لیا  ہے جب وہ  ایک دکان پر دوسری زین خریدنے کی غرض سے گئے تو دیکھا کہ یہاں  میری زین  لٹک رہی ہے   انکے پوچھنے پر دکاندار نے بتایا کی ایک شخص دو دینار میں بیچ کر گیا ہے۔ تو اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انسان کے اختیار میں  ہے کہ وہ حلال طریقے سے کمائے یا حرام طریقے سے بہرحال ایک مؤمن آدمی اس سے  گریز کرےگا ۔ تو یہ چند نقطے تھے جس کو میں نے مناسب سمجھا کہ آپ لوگوں کی رہنمائی کے لئے  تحریر کیا جائے جس سے سماج اور معاشرے میں پھیلی ہوئی غلط فہمیاں دور ہوسکے۔

Post a Comment

0 Comments