Taleem Se Jahil ki Jahalat nahi jaati | aalmiurdu


تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی

وفا عباسي – سنت كبير نغر

          موجودہ تناظر میں اگر دیکھا جائے تو انسان پہلے کے مد مقابل نہایت ہی پرسکون ماحول میں اور عیش وعشر ت کی زندگی بسر کر رہا ہے۔دو تین دہائی قبل لوگ ایک فاقہ کشی، غربت و افلاس اور قدیم ترین رسومات کے سہارے زندگی کے ادوار و مراحل گزاررہے تھے لیکن آج انسان کھانے پینے کی فراوانی اور بہترین حالت میں زندگی گزار رہا ہے، جہاں تعلیم و تربیت بھی ہے جہالت اور سرکشی بھی، عروج و زوال اور جدید افکار ترین نظریات بھی۔

taleem se jahil ki jahalat nahi jaati, urdu article on life, urdu article, urdu novel

          آج انسانوں کا ایک منفرد گروپ تعلیم کے ہوتے ہوئے بھی مختلف بے ہودہ خیالات اور سرکشی کو دامن گیر کئے ہوئے ہے۔ جو مسلمانوں اور غیر مسلمانوں دونوں پر مشتمل ہے۔ کیونکہ ان میں میں تعلیم وعیش و عشرت کا ماحول تو بہت ہی زیادہ گراف میں پایا جاتا ہے لیکن تربیت کا بالکل فقدان ہے۔اگر ایک شخص خود کو تعلیم سے دور رکھے اور تربیت کا پابند ہو تو اسکی اولاد  اور احباب بھی تربیت یافتہ ہوسکتے ہیں جو مستقبل میں پرسکون اور سلیقہ مند زندگی گزار سکتے ہیں پر وہیں ایک شخص ایسا ہے جو تعلیم کے میدان میں ماہر ہو اور اس کے اوپر دولت کا سایہ فگن ہو اور وہ صرف اسی کو اپنی دنیا جانے اور تربیت کا کوئی ملاپ نہ ہو تو پھر ایسی تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں۔

          کیونکہ ایسا شخص مستقبل میں کافی گھاٹے میں جا سکتا ہے، اسکی مثال آ پ یوں سمجھ لیں کہ اگر آپ کوئی چیز سیکھ لیں یا پڑھ لیں اس کو عمل میں نہ لائیں تو رفتہ رفتہ وہ چیز بہ آسانی زوال پذیر ہوجاتی ہے ذہنوں سے بھی اور روحانی طور پر سماج سے بھی۔تربیت جس کو ہم ٹریننگ کہتے ہیں۔آج مسلم سماج کے اندر بہت سارے ایسے شخص اور گھرانے پائے جاتے ہیں جو دولت کے نشوں میں چور رہتے ہیں کہ ہمارے پاس کافی مقدار میں مال و جائیداد اور اللہ کی رحمتیں ہیں جس کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتا ہے اور اپنے بچوں کو لاڈوپیار میں ڈبودیتا ہے لیکن وہی بچہ جب عصری علوم سے آراستہ وپیراستہ ہوتا ہے اور شہروں میں مختلف قسم کے خیالات کے لوگوں کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ ایسی صحبتوں میں غرقاب ہو جاتا ہے جو اسلام اور سماج دونوں کے لئے منافی ہوتے ہیں اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب والدین اور بچوں کے نظریات جداگانہ ہوجاتے ہیں تو ماحول طرح طرح کی رنجشوں کو جنم دینے لگتا ہے اور ہم اپنی ہی اولاد کو بددعاؤں اور گالیوں کا تحفہ دینے لگتے ہیں جس سے دونوں کی دنیا وآخرت برے نتائج کی طرف گامزن ہوجاتی ہے۔

          یہی وجہ ہے آج انسان اپنی اولاد کو اپنی محبتوں میں اس طرح ڈبو دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں دیتا ہے کہ کس ڈگر پر میرا  لڑکا چل رہا ہے۔ آج جہاں دنیا بہترین مستقبل کی خواہاں ہے وہیں مسلمانوں کے بچے جرائم اور نشوں کو اپنا مسکن بناتے جارہے ہیں کیونکہ  انہوں نے تعلیم تو دی لیکن تربیت نہیں دی  بلکہ کہیں کہیں تعلیم و تربیت دونوں کا فقدان ہے۔

          آج دنیا ہماری ہی اسلامی کتابوں، اصولوں اور تجربات کا استعمال کرکے طرح طرح کے اکسپیریمنٹ کرکے بلندیوں کو چھو رہی ہے لیکن ہم اور ہمارے بچے موبائل کی لطف اندوزیوں، جنسی جرائم، گرل فرینڈ کی فکروچاہت، گھریلو تنازعات، ایک دوسرے کو طعنہ وتشنیع دینے میں، ناجائز تجارتوں، آپسی خلفشار، عیش وعشرت اور اپنی اپنی بیجااناؤں کی خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

انھیں ساری وجوہات نے آج مسلم سماج کے بچوں کی سوچنے اور پرکھنے کی صلاحیتوں کو معدوم کر دیا ہے جس سے جدیداشیا ء کی اختراع و ایجاد میں  ان کے سوچنے کی فکری صلاحیت بالکل زائل ہوتی جارہی ہیں۔اور اگر کسی کے یہاں عصری علوم، ٹیکنالوجی اور سائنس جیسا علم ہے تو انکے پاس تربیت کا فقدان ہے کیونکہ کسی بھی چیز میں کامیاب ہونے کے لئے تربیت کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔

          تعلیم و تربیت کے باہم میلاپ ہی نے ہمارے اسلاف کو بڑی بڑی سلطنتوں اورجنگوں میں فلاح و نصرت سے سرفراز کیا ہے لیکن موجودہ مسلم سماج میں بس ایک ہی چیز ہے عیش و عشرت، مال و متاع اور دنیا حاصل کرنے کی بڑی بڑی چاہ اور جدوجہد۔جس میں نہ تو وہ کامیاب ہورہے ہیں اور نہ ہی آخرت کو پارہے ہیں بس اس سوچ اور فکر کو اپنائے ہوئے ہیں کہ ہم تو پیدائشی مسلمان ہیں جنت میں جانا طے ہے جبکہ یہ اس کی نہایت ہی کمزور اور بچکانہ سوچ کی غمازی کرتا ہے۔

          لہذا اگر ترقی کی منزلوں کو طے کرنا ہے، چاند پہ کمندیں ڈالنی ہیں اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ اور جنون ہے تو ذمہ داروں اور نوجوانوں کو چاہئے اپنی اسلامی اور عصری تعلیم کے ساتھ اور ایک حوصلہ لئے ہوئے بغیر کسی چیز کی پرواہ کئے ہوئے جس  چیز کو بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں اسمیں ایک دوسرے کی نیک خواہشات کے ساتھ کود پڑیں یقیں مانیں آپ بلندیوں کی کامیابیوں کوایسے حاصل کریں گے جس کا آپ اور سماج کو اندازہ بھی نہیں ہوگا یہ اس وقت ممکن ہوسکتا ہے جب ایک بھائی دوسرے بھائی کے ساتھ ہمدردی اور عاجزی وانکساری کے ساتھ کھڑا رہے گا والدین اپنے بیٹوں کو دعاؤں سے نوازیں گے اور بیٹے والدین کا ادب و احترام کریں گے، ایک پڑوسی دوسر ے پڑوسی کی خیر خیریت لے گا اور اخوت و بھائی چارگی کی مثال ثابت کرے گا، ایک دوست دوسرے دوست کا گریبان چاک نہیں کریگا بلکہ اس کے ساتھ وفاداری اور الفت و محبت کا پیغا م دے گا، اور ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ داروں کو کمتر اور چھوٹا نہ سمجھتے ہوئے اس کے معاملات میں اور رشتوں کو برقرار رکھنے میں حسن زنی سے کام لے گاکیونکہ رب کا فرمان ہے   : بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود ہی اپنی حالت نہ بدلے۔ (القرآن) اس وجہ سے ضروری ہے آپ اپنے علم کے ساتھ اپنی تربیت کو عمل میں لائیں تو ان شاء اللہ ضرور کامیاب ہوں گے کیونکہ اگر آپ کے پاس علم ہے اور آپ دوسروں کی ٹوہ میں لگے رہیں گے اپنی باتوں سے دوسروں کے سینوں کو چھلنی کریں گے اور اپنی علم کا بیجا استعمال کرتے ہوئے دوسروں کو پریشان اور اذیت میں مبتلا کریں گے تو پھر اس تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں جس کو آپنے برسہا برس اپنے  خون جگر سے سینچا ہے اس ناطے اپنی تعلیم و تربیت دونوں کو ساتھ لے کر چلیں اور اس کا ٹھیک اور صحیح جگہ استعمال کریں۔

تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ
تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی

Read also

Post a Comment

0 Comments