Beti Aur Baap Ka Rishta ( Urdu Fiction)

urdu novel , novel in urdu , urdu afsana

بیٹی اور باپ کا رشتہ ( ناول )

آج سمیر دبئی جارہا تھا اگلے دن بقرہ عید بھی آنے والی تھی، یہ لمحہ اس کے لئے نہایت ہی غم ناک تھا پھر بھی وہ کیا کرتا اگر وہ دبئی کا رخ نہیں کرتا تو اس کے بیٹی کی شادی کسیے ہوتی۔ وہ اب چھوٹی نہیں رہی گھر کے آنگن میں کھیلتی مسکراتی وہ بڑی ہوچکی تھی اور گھر والوں کو بھی پتہ نہیں چلا کہ روبینہ  پندرہ  برس کی ہوگئی ہے۔ کسی طرح فاقہ کشی اور غربت میں زندگی کٹ رہی تھی، لیکن اب سمیر کو بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کی یاد ستاتی رہتی تھی۔ اس مجبوری میں سمیر نے دبئی کا رخ کرنا مناسب سمجھا تاکہ دو چار پیسے جمع کرکے بیٹی کی شادی کرسکے۔ ادھر وہ کام میں لگ گیا کیونکہ ذمہ داریوں کے بوجھ تلے وہ دبا تھا۔ گھر کے اخراجات اور چھوٹے چھوٹے بچوں کا بھی دیکھنا تھا، دبئی کی کمائی بھی بہت ہی ناکافی تھی۔ سمیر اس سوچ میں ڈوبا تھا کی عرصہ محنت کرکے کام کروں گا  تو سارے رنج و الم دور ہوجائیں گے۔کفیل اس کے کام سے بہت خوش تھا  شروع شروع میں اس کے ساتھ کام کرنے والے ستاتے رہتے  لیکن وہ سب کچھ سہتا رہا اور ان سب کی باتوں کو ان سنا کرتا رہا اس امید میں کی بیٹی کی شادی کرنی ہے اور گھر کی ذمہ داریوں کوبھی پورا کرنا ہے۔

اب سمیر جوں جوں قدیم ہوتا گیا اس کے دشمن بھی اس کا ساتھ دینے لگے، کفیل اسے دیکھ کر اب زیادہ خوش ہونے لگا۔ سمیر کی سیلری اتنی کم تھی کہ اسکی ضرورتیں اسے بار بار فضول خرچی سے روکتی رہیں، اگر اس کے ساتھی نے کوئی چیز کھلا دی تو کھا لیتا تھا، اپنے پیسوں کو وہ بچاتا رہا اپنی بیٹی روبینہ کے ہاتھ پیلے کر نے کے لئے۔ دن گزرتا گیا اور سمیر کام کرتا گیا، اسے محسوس بھی نہیں ہوا کی ایک سال ہو گیا ہے۔ اب پھر بقرہ عید کا ماحول تھا لیکن اسے اپنے وطن جیسا اپناپن نہیں لگ رہا تھا کیونکہ وہاں اس کا کوئی قریبی اور رشتہ دار نہیں تھا جس کے پاس وہ ایک دو دن کے لئے چلا جائے۔ پھر بھی وہ اوپر سے مبسوط دیکھائی دیتا اور لوگوں کی ہنسی میں شامل رہتا تھا کسی طرح وہ اپنے دل کو سنبھالے رکھا۔ادھر اس کے گھر میں بھی خوشیوں کی فضا تھی پر سمیر کے نہ ہونے کی وجہ سے سب لوگ غموں سے رنجور تھے، کیا کرتے تقدیر کو کون ٹال سکتا ہے۔

سمیر کے دبئی جانے کے بعد اب اسے نئی نئی بیماریاں ہونے لگی ادھر اس آس لگائے گھر والے بڑی خوش فہمی میں تھے کہ سمیر آئیگا تو رہی سہی تکلیفیں بھی کوسوں دور ہوں جائینگی لیکن گھر والوں کہ یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ اب ایک مریض ہوگیا اور خود میں پریشان رہنے لگا ہے۔ سمیر اس گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ ایسا ہوسکتا ہے کیونکہ وہاں کا موسم اس کے ملک سے مختلف تھا دبئی ریگستان اور صحراؤں کا مسکن ہے یہ چیز صرف اسکو پتہ تھی۔اپنے سیلری میں سے آدھا وہ اپنی دواؤں پہ صرف کر دیتا تھا شاید یہی اس کی قسمت تھی، وہ اپنے ملک میں گرچہ مسکینیت اور فاقہ کشی میں رہتا تھا لیکن صحتمند اور جواں لگتا تھا اب اس میں پہلے جیسی طاقت نہ رہی، کبھی سینوں کے درد اور کبھی ذہنی طور پر پریشان رہنے لگا۔ ادھر جب بھی دبئی سے وہ کال کرتا بیگم ہمیشہ کہتی اجی بیٹی سیانی ہوگئی اب اس کی شادی کرنی بے حد ضروری ہوگئی وہ کچھ نہیں بولتا اور سب  اثبات میں جواب دیتا، اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی وہ دبئی کے حالات کو گھر والوں سے راز فاش نہیں کرتا کہ کہیں یہ سب سن کر وہ لوگ اور پریشان نہ ہو جائیں۔ اسی طرح زندگی چلتی رہی اور دن گزرتا رہا، اب پھر سے وہی غربت جنم لینے لگی کیونکہ وہ پیسہ بہت تھوڑا بھیجتا اور سمیر کی بیوی اور بچے ایک وقت کھانا کھاتے اور ایک وقت فاقہ کشی کرتے اب ایسی حالت میں وہ پڑوسی سے مانگ بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ سب کو پتہ تھا کہ سمیر دبئی رہ رہا ہے کس منہ سے وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلائے، دبئی میں سمیر اور ادھر گھر والے دونوں پریشان رہنے لگے گویا سمیر اور اس کے فیملی کی زندگی بہت ہی اذیت میں بسر ہونے لگی اسی طرح وہ  سمیرکو اپنے دن کاٹتے کاٹتے دو سال کا عرصہ ہونے والا تھا اور ادھر اس کی بیوی اس گمان میں تھی کی اب میری بیٹی کی شادی ہو جائیگی لیکن مستقبل میں کسی کو کیا پتہ کیا ہوگا۔ سمیر کے حالات اور گھر کے اخراجات اتنے بڑھ گئے کہ وہ بوجھ کو سنبھالتے سنبھالتے اپنی بیٹی کے ہاتھ کو پیلا نہ کر سکا کیونکہ دولہے کے گھر اور اس کی فرمائشوں نے سمیر کو  پھر ایک بار دبئی کے ریگستانوں کے سفر کو مجبور کردیا۔

 سمیر کے بیٹی روبینہ کی سگائی میں  ایک لاکھ کا خرچ آگیا تھا، اب جو بھی پیسہ بچھا تھا وہ نا کے برابر تھا۔ سمیراپنی بیماری  کے ساتھ ساتھ روبینہ کی عزت کو اس کے گھر تک پہنچانے کے لئے  ناگواری میں وہ یہ تکلیف برداشت کرنے کے لئے چل پڑا۔ اس بار وہ اتنا ٹوٹ چکا تھا کہ اندر سے وہ خود کو بہت ہی لاچار سمجھ رہا تھا۔ کفیل اور اس کے ساتھیوں کا پہلے جیسا برتاؤ اور سلوک نہیں رہا، جب بھی کام میں تھوڑسی  کوتاہی کرتا لوگ اس کی کفیل سے شکایت کرتے اور طرح طرح کی باتیں بھی کرتے جس کے سبب وہ یہاں کی زندگی سے بھی اوب چکا تھا۔ اپنے ملک گھر والوں سے کبھی کبھار ہی کال کرتا کیوں کی پیسہ بہت ہی کم بچ پاتا، کفیل نے وعدہ کیا تھا کہ تمہاری سیلری  میں ملک سے آنے کے بعد اضافہ کردوں گا لیکن شاید اس کی قسمت اس کا ساتھ نہیں دئے رہی تھی۔ کفیل سے جب کہتا کہ سیلری میں اضافہ کے لئے آپ نے کہا تھا تو اس کا جواب تھا کی اب تم پہلے جیسا کام نہیں کرتے ہو اس وجہ سے سیلری نہیں بڑھے گی، وہ لاکھ کوشش کرتا رہا لیکن کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا۔

ادھر اس کی بیٹی روبینہ اپنے ابو کی یادوں میں ڈوبی رہتی اور اپنوں کی حالت سوچ سوچ کر روتی رہتی اس کی امی بھی ذہنی بیمار بن چکی تھی کیونکہ اس سے چھوٹے چھوٹے بھی بھائی اور بہن تھے جن کو دیکھنا تھا پر ابھی تو روبینہ کی ہی پریشانی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ سمیر کے پیسہ کم بھیجنے کی وجہ سے گھر میں پریشانیاں پھر کچھ زیادہ ہی آنے لگیں اگر وہ ادھار کے لئے کسی رشتہ دار یا پڑوسی سے کہتی تو کچھ نہ کچھ بہانہ بنا دیتے۔ کہیں سے بھی ادھار نہیں مل پا رہا تھا،بیچاری روبینہ اپنے ابو کے لئے دعائیں مانگتی اور اپنے خدا سے فریاد کرتی رہتی کی رب تو اپنی رحمت ہم پر نازل فرما اور  رنج و الم دور کر دے۔ یہ سب دیکھتے  دیکھتے روبینہ اب کم کھانا کھاتی کبھی کبھی دو دو وقت وہ فاقہ کشی کرلیتی۔

زندگی کا پہیہ تیزی سے گزرتا رہا  اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلا اب روبینہ کی حالت نازک سے نازک تر ہوتی چلی گئی، گھر کے بجائے ہسپتالوں میں اسے بھرتی ہونا پڑا، اسکے سسرال میں بھی کوئی درینہ شخص نہیں تھا جو اس کی دیکھ ریکھ کرتا کیونکہ وہ لوگ روبینہ کی سگائی کرکے شہر چلے گئے تھے گاہے بگاہے ہی کال کرتے، روبینہ کہ حالت اتنی بگڑ گئی کی اسے آسی یو میں بھرتی کرانا پڑا۔ ڈاکٹروں نے  چیک اپ کیا تو رپورٹ میں آیا کہ اس  کے دونوں لیور خراب ہیں اور بچنے کے بہت کم چانسز ہیں، یہ سن کر روبینہ کی ماں زمین پر گر پڑی  ان سب چیزوں کو دیکھ کے اس کے بھائی بہن زاروقطار رونے لگے گو کہ ایک کہرام سا مچ گیا ہو۔ اس بات کی خبر جب اس کے سسرال والوں کو پتہ چلی تو ایک دلاسہ کے سوا کچھ نہ دے سکے۔ دو چار پیسے بھی نہ دئے جس سے روبینہ کا کچھ علاج ہوسکے۔

ادھر سمیر پیسہ بچانے کی خاطربہت دنوں سے گھر کی خیر خبر بھی نہیں لیا تھا، آج جمعہ تھا اس نے سوچا گھر پر کال کرلیں دیکھیں کیا حالت ہے، وہ اس امید کے ساتھ کال کر رہا تھا کہ گھر آنے کا وقت قریب آگیا ہے کچھ گھر والوں سے لانے کے بارے میں پوچھ لیں، اس نے جب کال کیا تو پتہ چلا روبینہ کی حالت خراب ہو گئی ہے اور آخری مرحلے پر ہے وہ یہ خبر سن کے دھڑام سے وہیں زمیں پر گر گیا، ڈاکٹروں نے بتایا کہ سمیرکومہ میں چلا گیا ہے  ان کا ہوش میں آنا ناممکن ہے۔ کچھ دنوں کے بعد اس کی کمپنی نے اسے اس کے ملک بھیج دیا  جہاں کچھ مہینوں میں اس نے اپنی بیٹی سے پہلے ہی دم توڑ دیا۔

Post a Comment

0 Comments